ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / دہلی پولس کے سائبر کرائم نے ماحولیاتی جہد کار دیشاروی کو بنگلورو سےکیا گرفتار: بغاوت اور سازش کا الزام

دہلی پولس کے سائبر کرائم نے ماحولیاتی جہد کار دیشاروی کو بنگلورو سےکیا گرفتار: بغاوت اور سازش کا الزام

Mon, 15 Feb 2021 19:57:53    S.O. News Service

دہلی؍بنگلورو:15؍فروری (ایس اؤ نیوز) سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کی جانب سے ’’ٹول کٹ‘‘ کو لے کر ٹیوٹر پر پوسٹ کئے گئے ٹیوٹ (جو بعد میں ڈلیٹ بھی کیاگیا ) کولے کر ایف آئی آر درج کرنے کے 10دن بعد دہلی پولس کے سائبر سیل نے بھارت کی 22سالہ ماحولیاتی جہد کار دیشا روی کو ان کے بنگلورو والے گھر سے گرفتار کیا ہے۔ دیشا روی پر بغاوت اور کریمنل سازش رچنے کا الزام لگایاگیا ہے۔ اتھلیٹک کوچ کی بیٹی دیشا روی کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیاگیاتو وہاں اس کو 5دن پولس کسٹڈی میں بھیج دیاگیا ہے۔

اتوار کو دہلی پولس کی طرف سے پوسٹ کئے گئے ٹویٹ کے مطابق دہلی پولس کے سائبر سیل نے دیشا روی کو گرفتارکیا ہے، دیشا روی ٹول کٹ گوگل ڈاکومنٹ کی مدیر ہ ہے اور دستاویزات کی تشکیل اور ان کا موازنہ کرتےہوئے نشر واشاعت کی سازش  کی کلیدی ملزم ہے۔ اس نے واٹس ایپ گروپ بنائے اور ٹول کٹ دستاویزات کی تیاری میں جٹ گئی ، دیشاروی نے گریٹا تھنبرگ کے ساتھ بہت ہی قریبی تعلق رکھتی ہیں اور اس کے ساتھ مل کر کام کو انجام دیا ہے۔ مزید کہا ہےکہ اس دوران وہ  خالصتان کے حمایتی ادارے پوئٹک جسٹس فاؤنڈیشن سے برابر رابطہ میں رہتے ہوئے ملک کے خلاف نفرت و مایوسی پھیلارہی تھی۔ گریٹا تھنبرگ سے ٹول کٹ شئیر کرنے والوں میں یہ بھی ایک تھی ۔

دیشاروی بنگلورو کی ماؤنٹ کارمل کالج سے بی بی اے کی ڈگر ی رکھتی ہے اور تغذیہ سے تعلق رکھنےو الے ایک اسٹارٹپ گروپ سے وابستہ ہے۔ اتوار کو پٹیالہ ہاؤس عدالت میں جب اسے پیش کیاگیا تو دیشا روی نے قبول کیا کہ وہ ٹول کٹ میں صرف دو لائنوں میں تصحیح کی تھی جب کہ پولس کا کہنا ہے کہ دیشا روی نے دولائنوں سے بھی زیادہ کام کیاہے۔ پولس نے گرفتاری کو لےکر کی جارہی تنقید کو خارج کرتےہوئے کہاکہ دیشاروی کی گرفتاری میں اصول پر عمل آوری ہوئی ہے۔ اور اس کے والدین کو تفصیل سے آگاہ کرنےکے بعد ہی اس کو گرفتار کیا گیا ہے۔

گھروالوں کا  بات کرنے سے انکار : دیشا روی کی گرفتاری کے  بعد گھروالوں نے میڈیا سے بات کرنے سے انکار کیا۔ جب اخبار نویسوں نے ان کی والدہ سے رابطہ کرتے ہوئے جانکاری لینےکی کوشش کی تو ان کی والدہ منجولا روی نےکہاکہ ہم جانتےہیں کہ کیا کچھ ہورہاہے۔ ہم اس موقع پر میڈیا سے کچھ بھی کہنا نہیں چاہتے۔ گھر کے پڑوسیوں نے بھی اس کی گرفتاری پر حیرت کا اظہار کیا ، کچھ نے  کہاکہ ہرروز دیشا اپنے کتے کو لےکر ماں کے ساتھ کمپاؤنڈ کے باہر ایک چھوٹے سے گارڈن جایا کرتی تھی۔

دیشا روی کے متعلق ایک زوایہ یہ بھی ہے کہ وہ ایک ماحولیاتی جہد کار ہے، بنگلورو کو صاف رکھنے ، شجرکاری کی مہم چلانے اور موسمیات کے متعلق جانکاری دینے میں ماہر ہے۔ اس کی ہم جماعت ساتھیوں نے بتایا کہ  دیشا اسکول اور کالج میں بہت ہی ذہین تھی ، کالجوں کے بین  مقابلہ جات  میں وہ ہمیشہ انعام جیتا کرتی تھی، وہ ایک بہترین منتظم اور گفتگو کرنے کی ماہر تھی۔ پھر اس کے بعد وہ ایک ماحولیاتی جہد کار بن گئی ۔اس کی ایک سہیلی نے کہاکہ موسم اور ماحولیات میں ہونے والی تبدیلیوں کووہ  پہلے مرحلے میں ہی جان لیتی تھی۔ ایک اور سہیلی نےکہاکہ دیشا کو پتہ تھا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ  اس کے دادا بھی کسان تھے انہوں نے قحط اور سیلاب کا زمانہ دیکھاتھا  اور زراعت سے جڑی کئی مشکلات کا سامنا کیا تھا۔ اس کے ماحولیاتی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ جب 19برس کی تھی تبھی سے ماحولیات سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ ایک مخلص جہد کار تھی ، اس کو کسی سے کوئی غرض نہیں تھی، وہ صرف اپنے کام سے مطلب رکھتی تھی ۔

فرائیڈے فار فیوچر (ایف ایف ایف): دیشاروی بین الاقوامی سطح پر چلنے والی فرائیڈے فار فیوچر نامی ادارے کی بنگلورو چاپٹر کی بانی ممبر تھی۔ جس کی گریٹا تھنبرگ حمایتی ہے۔ ملک بھر میں اس کی 30سے زائد شاخیں ہیں۔ ادارے سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماحولیات اور موسمیات کے متعلق کام کرنے والے ادارے سے تعلق رکھتےہیں ، ہم کسی قسم کا تشدد نہیں بلکہ عدم تشدد پر یقین رکھتےہیں۔ ہم ایک دوسرے سے اپنے تجربات کو شئیر کرتےہیں اور پرامن ، محفوظ اور مثبت ماحولیات کی تبدیلی کے لئے کام کرتے ہیں۔

دیشاروی کی گرفتاری پر ماحولیاتی اداروں کے عہدیداران ، ماہرین وغیرہ نے فوری رہائی کا مطالبہ کرتےہوئےکہاہے کہ اپنے شہری کی اس طرح کی گرفتاری سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی واضح خلاف ورزی ہے۔ ٹول کٹ کو لے کر بغاوت، سازش جیسے الفاظ کا استعمال کرنا ناسمجھی کی باتیں ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کبھی اس طرح کسی ملک کے خلاف کوئی سازش رچی جاسکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت  کی پالیسی کی مخالفت کرنے پر ان کو دشمن کی نظر سے دیکھنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔


Share: